ساری صدیوں پہ جو بھاری ہے وہ لمحہ ملتا
آپ کو دیکھتا مکہ سے میں ہجرت کرتے
آپ کو دیکھتا طائف میں دعائیں دیتے
آپ کے سامنے رکھ دیتا میں سب کچھ لا کر
اپنا گھربار لٹا دیتا تو اُس کے بدلے
آپ کی طرح بٹھانا میں اسے کندھوں پر
آپ کے پیچھے کھڑے ہوکے نمازیں پڑھتا
بھول جاتا میں کسی طاق میں آنکھیں رکھ کر
زندگی آپ کے قدموں میں بسر ہو جاتی
حشر تک میری غلامی یونہی قائم رہتی
— Zahid Fakhri\
