رہی عمربھر جو انیس جاں وہ بس آرزوۓنبی رہی
شہ دیں فکر و نگاہ سےمٹے نسل و رنگ کےتفرقے
سرِ دشتِ زیست برس گیا جو سحابِ رحمت مصطفیٰ
تھی ہزارتیرگئ فتن نہ بھٹک سکامیرا فکر و فن
وہ صفا کا مہر منیر ہے طلب اس کی نورضمیرہے
وہی ساعتیں تھیں سرورکی وہی دن تھےحاصل زندگی
— Unknown
