اُمی لقبی
کونین کے والی
میں تیرا سوالی
کر مجھ کو عطا
تھوڑی سی ضیا
تارے تِرے موت
چند اتری تھالییہ کس نے کہا
سایا نہ تھا
مجھ کو نظر آیا
ہر سُو تِرا سایا
جو تیرا ہوا
رب اُس کا ہوا
پائی ہے خدائی
جس نے تجھے پایااے سرور دیں
شب جس کی نہیں
بانٹے وہ سویرا
کملی تِری کالی
ساقی مِرا تو
بھر میرا سبُو
دریا ہوں کہ جھیلیں
سب تیری سبیلیںخورشید حرا
ٹھوکر سے گِرا
آہوں کی طنابیں
دُوری کی فصیلیں
فردوس مرا
روضہ ہے تِرا
پلکوں میں پودے
دیوار کی جالیمحبوب خدا
اے نور ھُدا
چمکے مِرا سینہ
بن جائے مدینہ
کرتی ہے انا
اب تیری ثنا
اُس پار لگادے
لفظوں کا سفینہرکھ میرا بھرم
دے شاہِ اُمم
حسان کی نظریں
آواز بلالی
بس ایک یہی
حسرت ہے مِری
دل موت سے پہلے
کچ تجھ سے بھی کہہ لےبھڑکے جو طلب
ہو درد عجب
اب تیرا مظفر
یادوں سے نہ بہلے
رحمت کی نظر
ہوجائے اگر
بن جائے گلستاں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
