اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری
جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے
تو ہی ہے مُلکِ خدا مِلکِ خدا کا مالک
تیرے اَنداز یہ کہتے ہیں کہ خالق کو ترے
اس نے حق دیکھ لیا جس نے ادھر دیکھ لیا
بزمِ محشر کا نہ کیوں جائے بلاوا سب کو
عالم رُوح پہ ہے عالم اَجسام کو ناز
جن کے سر میں ہے ہوا دشت نبی کی رِضواں
تو وہ محبوب ہے اے راحت جاں دِل کیسے
مہ و خورشید سے دن رات ضیا پاتے ہیں
گٹھڑیاں بندھ گئیں پر ہاتھ ترا بند نہیں
موت آ جائے مگر آئے نہ دل کو آرام
دیکھنے والے کہا کرتے ہیں اللہ اللہ
مجمع حشر میں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے
نہ ابھی عرصۂ محشر نہ حسابِ امت
تو کچھ ایسا ہے کہ محشر کی مصیبت والے
ٹوپیاں تھام کے گر عرشِ بریں پر دیکھیں
حسن ہے جس کا نمک خوار وہ عالم تیرا
دونوں عالم کے سب اَرمان نکالے تو نے
چین پائیں گے تڑپتے ہوئے دِل محشر میں
ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن
— Hassan Raza Khan Barelvi\
