بیٹھا ہوا ہوں گوشہء حسن المآب میںسجدوں کی آنکھ سے کیا اس کا مشاہدہ
ساری کتاب پڑھ گیا امّ الکتاب میںکتنی ہے خوش نصیب تہی دامنی مری
رحمت اتر رہی ہے دعا کے جواب میںاسکی طلب نہ ٹوٹنے والا ہے سلسلہ
تعبیر میں ہے خواب کہ تعبیر خواب میںربِّ عُلا کا حکم ہے پیمانہء عمل
گنجائشیں نہ ڈھونڈھ شریعت کے باب میںکرتا رہوں مطالعہء مرضی خدا
سب سے اہم یہ لفظ ہے پورے نصاب میںنیّت کو اپنی ٹھیک مظفر رکھا کرو
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
