اللہ کے آگے جُھکنے والوں کے ساتھ جُھکا کر
اللہ اللہ کیا کرجُھکنے والی پیشانی کو بلند کرتا ہے وہ
جو اُس سے ڈرتا ہے اُس کو پسند کرتا ہے وہ
وہ تجھ کو خوشیاں دے گا تُو اُس کو خوش رکھّا کر
اللہ اللہ کِیا کریاد کِیا کر اُس کو وہ بھی تُجھ کو یاد کرے گا
تیرے اندر کی ویرانی کو آباد کرے گا
دیکھ رہا ہے جو تُجھ کو تُو بھی اُس کو دیکھا کر
اللہ اللہ کِیا کرآتے جاتے موسم سے پیغام لیا کر اُس کا
جس نے تجھ کو گویائی دی نام لِیا کر اُس کا
شہ رگ سے بھی پاس ہے جو اُس سے مت دُور رہا کر
اللہ اللہ کِیا کرتو بہ کر نا ، شُکر بجا لانا منصب ہے تیرا
تُو اُس کا بندہ ہے وہ خالق ہے رب ہے تیرا
ماں سے باپ سے بڑھ کر چاہنے والے کو چاہا کر
اللہ اللہ کِیا کرہر طالب کو اُس کی طلب سے سوا دیا کرتا ہے
ذرّہ مانگو تو وہ ارض و سما دیا کرتا ہے
لُوٹنی ہے رحمت اُس کی تو راتوں کو جاگا کر
اللہ اللہ کیا کربند آنکھوں سے بھی تُو اُس کی طرح اگر آئے گا
دھیان کے پردے پر وہ تُجھ کو صاف نظر آئے گا
اُس کو پانا چاہتا ہے تو خود اپنا پیچھا کر
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
