بندہ و مولا ، اوّل و آخر
آپ ہی منزل ، آپ مُسافر
شیشہء کثرت ، چہرہ وحدت
حق موجُود محمّؐد صُو رتروشنیوں سا ، پیکرِ خاکی
لاکھوں ہی صُبحیں ، اوٹ قبا کی
عرشِ مُعّلٰے اُس کا مُصلّےٰ
ہاتھ میں ڈوری اَرض و سما کی
عالمِ بالا، دیکھنے والا
خیلِ ملائیک ، سیّدِ اُمّت
حق موجُود محمّؐد صُو رتغارِ حرا سے پُھوٹی ہُوئی ضَو
حُسنِ اَحد کی وُہ ابدی لَو
اُس کی پناہیں خُلد کی راہیں
مشرق و مغرب اُس کا ہی پَر تو
اُس کی گواہی ، مُہرِ الٰہی
دینِ مکمّل ، ختمِ نبوّت
حق موجُود محمّؐد صُو رتموجِ تبّسم ، نُور کی دھاری
لرزش ِ داماں ، بادِ بہاری
چاپ قدم کی شمع حرم کی
جنبشِ ابرُو ، رحمت ِ باری
مِلتے ہُوئے لَب ، فیصلہ رب
سانّس بھی اُس کا ، حُکم ِ شریعت
حق موجُود محمّؐد صُو رتصاحبِ عالم صدرِ زمانہ
ہاتھ ہیں خالی ، بانٹے خزانہ
سِینوں کے اندر ، اس کا سمندر
رُوحوں کے حُجرے، اُس کا ٹھکانہ
اُس کا صحیفہ ، میرا وظیفہ
اُس کی محبّت ، میری عبادت
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
