کر مجھے مالا مال
میری جھولی میں ڈال
اپنے قدموں کی دھول
میرے اچھے رسولتشنگی کا علاج
سنگ اسود کے پاس
چارہ اختلاج
سبز گنبد کے پاس
اشک بن کر دعائیں
میری پلکوں پہ آئیں
اور صدائیں لگائیں
چل محمد ﷺ کے پاس
تخت مانگوں نہ سیج
کوئی پروانہ بھیج
کر مجھے بھی قبول
میرے اچھے رسولآرزوئے وصال
جیسے باہوں میں حُور
اور دل کا یہ حال
جیسے جلتا ہو طُور
تو ہی میرا مدار
تو ہی میرا حصار
تو مِرے آر پار
جیسے شیشے سے نُور
یوں ہے تو میرے سنگ
جیسے پانی میں رنگ
جیسے کانٹوں میں پھول
میرے اچھے رسولتیری فرقت کی دھوپ
میری فصل بہار
تیری یادوں کا روپ
میرا جیون سنگھار
آنکھ جلوہ بدوش
روح احرام پوش
تیرے حلقہ بگوش
میرے لَیل و نہار
رونق ہست و بُود
صرف تیرا وجود
تیرے سچے اصول
میرے اچھے رسولمیری سانسوں کی باڑھ
تیرے آنگن کے ساتھ
میرا گزرے اساڑھ
تیرے ساون کے ساتھ
ابر رحمت گواہ
بہہ گئے سب گناہ
جب سے لپٹی نگاہ
تیرے دامن کے ساتھ
راہِ حق پر مدام
چلے تیرا غلام
اب نہ ہو کوئی بھول
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
