کبریا سے مانگنا ہے مصطفؐےٰ سے مانگنادینے والا ہے خدا اور بانٹنے والا رسولؐ
ایک جیسا ہے کسی کی بھی رضا سے مانگنایہ بھی رحمت وہ بھی رحمت، نام دونوں کا کریم
کیا ہے مشکل ، بندہء مشکل کشا سے مانگنااپنا ایماں ہے کہ زیرِ خاک ہیں زندہ حضورؐ
مانگنی ہے تو بقا اپنی، فنا سے مانگنادھوپ میں بدلی رہا کرتی تھی سر پر آپؐ کے
کیا غلط ہے ٹھنڈکیں ٹھنڈی ہوا سے مانگنامسلکِ ایمان و دیں ہے مطمعِ اسلام ہے
نقشہء توحید اُن کے نقشِ پا سے مانگناحشر کے دن بھی میّسر ہو شفاعت آپ کی
اس لیے لازم ہے محبوبِ خدا سے مانگناآخرت تک کے لیے سیراب ہونا ہے اگر
ایک چھینٹا رحمتِ حق کی گھٹا سے مانگناشرط یہ ہے آپ کی آواز کے پیچھے چلو
منزلیں پھر حسبِ منشا ارتقا سے مانگنابے وسیلہ تو مظفر زندگی ممکن نہیں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
