بے حِسی ، راہ نُما ٹھہری ہے
چھِن گئیں مجھ سے مِری روشنیاں
اپنے ہی خُوں میں نہا کر نِکلوں
کِس کی زنجیر ہلاؤں جا کر
بھُول بیٹھا ہُوں خُدا کو شاید
کوئی منزل ہے نہ رستہ میرا
پیاس بڑھتی ہی چلی جاتی ہے
عکسِ اَسلاف سے شِکوہ ہے مجھے
مسجدِ رُوح میں ہوتی ہے اذاں
رحم، اَفلاس پہ میرے ، یارب
— Muzaffar Warsi\
