ہُوا جاتا ہے د شمن سب زمانہ یارسولَ اللہ
مجھے چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیر رکھا ہے
جو اپنے تھے وُہی بیگانے ہو کر اب ستاتے ہیں
بھنور میں پھنس چکی ہے ناؤ آقا ہائے کیا ہوگا
غم و آلام نے ہر سَمْت سے آقا جکڑ ڈالا
شہا! گلزارِ سنّت پر خَزاں نے کر دیا حملہ
غمِ دنیا میں کیوں روئیں ہمیں کردو نصیب آقا
ڈرایا بلکہ مارا بھی مجھے یامصطَفٰے جس نے
نہیں عطارؔ قابِل امتِحاں کے سرورِ عالم
— Unknown
