حامی دین ہدیٰ تھے شاہ جیلانی میاں
مثل گل ہنگام رخصت مسکراتے ہی رہے
ہجر کی نہ لائے تاب آخرش جاہی ملے
مال و زر سب کچھ نچھاور راہِ حق میں کر گئے
صبر و تسلیم و رضا کی اب ہمیں توفیق دے
شور کیسا ہے یہ برپا غور سے اخترؔ سنو
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
