اب بلا لیجۓ نا مدینہ آرہا ہے پھر حج کا مہینہ
آنسوؤں کی لڑی بن رہی ہو اور آہوں سے پھٹتاہو سینہ
مجھ کو آقا ﷺ مدینے بلا لو حسرتیں دل کی ساری نکالو
کاش اس شان سے حاضری ہو مجھ پہ دیوانگی چھا گئ ہو
دل سے اُلفت جہاں کی نکالواس تباہی سے مولیٰ بچالو
مجھ پہ آقاﷺ نگاہِ کرم ہو دُوردنیا کاہررنج وغم ہو
مَیں مبلغ بنوں سنتوں کا خوب چرچا کروں سنتوں کا
بعدِ مُردن یہ احسان کرنا منہ پہ خاکِ مدینہ چھڑکنا
ہےتمناۓ عطارؔ یارب! اُن کے جلووں میں یوں موت آۓ
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
