اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہو کر
شب معراج وہ دم بھر میں پلٹے لا مکاں ہو کر
چمن کی سیر سے جلتا ہے جی طیبہ کی فرقت میں
تصور اس لب جاں بخش کا کس شان سے آیا
کریں تعظیم میری سنگِ اَسود کی طرح مومن
دکھا دے اے خدا گلزارِ طیبہ کا سماں مجھ کو
ہوئے یمن قدم سے فرش و عرش و لامکاں زندہ
ترے دست عطا نے دولتیں دیں دل کئے ٹھنڈے
فدا ہو جائے امت اس حمایت اس محبت پر
جو رکھتے ہیں سلاطیں شاہی جاوید کی خواہش
وہ جس رہ سے گزرتے ہیں بسی رہتی ہے مدت تک
حسنؔ کیوں پاؤں توڑے بیٹھے ہو طیبہ کا رستہ لو
— Hassan Raza Khan Barelvi\
