آہ! ہر لمحہ گناہ کی کثرت اور بھرمار ہے
مجرموں کے واسطے دوزخ بھی شعلہ بار ہے
ہائے! نافرمانیاں بدکاریاں بے باکیاں
چھپ کے لوگوں سے گناہوں کا رہا ہے سلسلہ
زندگی کی شام ڈھلتی جا رہی ہے ہائے نفس
یاخدا! رَحمت تری حاوی ہے تیرے قہر پر
بندۂ بدکار ہوں بے حد ذلیل و خوار ہوں
موت کے جھٹکوں پہ جھٹکے آرہے ہیں المدد
اب سَرِ بالیں خُدارا مسکراتے آیئے
غسل دینے کے لئے غَسّال بھی اب آچکا
یانبی! پانی سے سارا جسم میرا دُھل گیا
لاد کر کندھوں پہ اَحباب آہ! قبرستاں چلے
قبر میں مجھ کو لِٹا کر اور مِٹّی ڈال کر
خواب میں بھی ایسا اندھیرا کبھی دیکھا نہ تھا
یارسولَ اللہ! آکر قبر روشن کیجئے
قبر میں شاہِ مدینہ آچکے مُنکر نکیر
یانبی! جنّت کی کھڑکی قبر میں کُھلوایئے
تُو نے دنیا میں بھی عَیبوں کو چُھپایا یاخدا
نیکیاں پلّے نہیں آقا شَفاعت کیجئے
یانبی عطارؔ کو جنّت میں دے اپنا جَوار
کاش ہو ایسی مدینے میں کبھی تو حاضِری
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
