ایک طلب ہے ایک ہی خُو لا الہٰ الا ھو
تیری عبادت کیا کہنا تیری حقیقت کیا کہنا
اٹھ گۓ آنکھوں سے پردےراز کھلےسب جلوؤں کے
مجھ کو اپنی ہستی کا چل جاۓ اک روز پتہ
تجھ کو دیکھا ہےاکثر تجھ کوسنا ان کوسن کر
صلِ علیٰ گونج اٹھی تیرےحرم کی آج فضا
تیرے حبیب کے صدقےمیں در تک تیری پہنچا ہے
— Unknown
