ایسا لگتا ہے مدینے جلد وہ بلوائیں گے
وہ اگر چاہیں گے تو ایسی نظرفرمائیں گے
موت اب تو گنبدِ خضریٰ کےساۓ میں مِلے
اے خوشا! تقدیر سے گر ہم کو منظوری مِلی
روتے روتے گرپڑیں گے اُن کے قدموں میں وہاں
خلد میں ہوگا ہمارا داخلہ اس شان سے
حشر میں کیسے سنبھالوں گا میں اپنےآپ کو
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
