اللہ مجھے حافِظِ قُراٰن بنادے
ہوجایا کرے یاد سَبَق جلد الٰہی
سُستی ہو مِری دور اُٹھوں جلد سَویرے
ہو مدرَسے کا مجھ سے نہ نقصان کبھی بھی
چُھٹّی نہ کروں بھول کے بھی مدرَسے کی میں
اُستاد ہوں موجود یا باہَر کہیں مصروف
خَصلَت ہو مری دُور شرارت کی الٰہی
اُستاد کی کرتا رہوں ہر دم میں اِطاعت
کپڑے میں رکھوں صاف تُو دِل کو مِرے کر صا ف
فِلموں سے ڈِراموں سے دے نفرت تُو الٰہی
میں ساتھ جماعت کے پڑھوں ساری نَمازیں
پڑھتا رہوں کثرت سے دُرُود اُن پہ سَدا مَیں
ہر کام شریعت کے مطابِق میں کروں کاش
میں جھوٹ نہ بُولوں کبھی گالی نہ نِکالوں
میں فالتو باتوں سے رہوں دُور ہمیشہ
اَخلاق ہوں اچّھے مِرا کردار ہو سُتھرا
اُستاد ہوں ،ماں باپ ہوں ،عطّارؔ بھی ہوساتھ
— Unknown
