اپنے در پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو
قید شیطاں سے چھڑاؤ تو بہت اچھا ہو
گردشِ دور نے پامال کیا مجھ کو حضور
یوں تو کہلاتا ہوں بندہ میں تمہارا لیکن
غم پیہم سے یہ بستی مری ویران ہوئی
کیف اس بادۂ گلنار سے ملتا ہی نہیں
تم تو مردوں کو جلا دیتے ہو میرے آقا
جس نے شرمندہ کیا مہر و مہ و انجم کو
رو چکا یوں تو میں اوروں کے لئے خوب مگر
یوں نہ اخترؔ کو پھراؤ مرے مولیٰ در در
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
