اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
گِھرا ہے بلاؤں میں بندہ تمہارا
ترے ہاتھ میں ہاتھ میں نے دیا ہے
مریدوں کو خطرہ نہیں بحر غم سے
تمہیں دکھ سنو اپنے آفت زدوں کا
بھنور میں پھنسا ہے ہمارا سفینہ
جو دکھ بھررہا ہوں جو غم سہہ رہا ہوں
زمانے کے دکھ درد کی رنج و غم کی
نکالا ہے پہلے تو ڈوبے ہواؤں کو
جسے خلق کہتی ہےپیارا خدا کا
کیا غور جب گیارہویں بارہویں میں
پھنسا ہےتباہی میں بیڑا ہمارا
مشائخ جہاں آئیں بہر گدائی
مری مشکلوں کو بھی آسان کیجۓ کہ
وہاں سر جھکاتے ہیں سب اونچےاونچے
مجھےپھرمیں نفس کافرنے ڈالا
کھلا دے جو مرجھائی کلیاں دلوں کی
مجھے اپنی الفت میں ایسا گما دے
بچا لے غلاموں کو مجبوریوں سے
دکھا دے ذرا مہر رخ کی تجلی
لپٹ جائیں دامن سے اس کے ہزاروں
سروں پر جسےکیتے ہیں تاج والے
کہے کس سے جا کر حسن اپنے دل کی
— Hassan Raza Khan Barelvi\
