ہرسوالی جہاں اپنی جھولی بھرےاس درِ مصطفیٰ کی سدا خیر ہو
ہجرمیں بھی تڑپنےکاہےاک مزالیکن ان سےنہ رکھے خدااب جدا
اک طرف سبزگنبدکی ہریالیاں اک طرف روبروہیں حسیں جالیاں
عمربھرنعت ان کی سناتےرہےمحفلیں مصطفیٰﷺ کی سجاتےرہے
— Muhammad Ali Zahoori\
ہرسوالی جہاں اپنی جھولی بھرےاس درِ مصطفیٰ کی سدا خیر ہو
ہجرمیں بھی تڑپنےکاہےاک مزالیکن ان سےنہ رکھے خدااب جدا
اک طرف سبزگنبدکی ہریالیاں اک طرف روبروہیں حسیں جالیاں
عمربھرنعت ان کی سناتےرہےمحفلیں مصطفیٰﷺ کی سجاتےرہے
— Muhammad Ali Zahoori\
سوہنا اے من موہنا اےآمنہ تیرا لال نی
ایہڈی سوہنی صورت میرے دل وچ کھبدی جاوے
سوہنا اے من موہنا اےآمنہ تیرا لال نی
اپنی اے تے گل نئیں کردا رب دی بولی بولے
ایہدے ورگا جگ وچ اڑیو کردا پیار نہ کوئی
میری ڈاچی والی ودھیاں اس دن توں رفتاراں
مک گۓ صدمے غربت والے ٹٹ گیا غم داتالا
— Unknown
راہیا مدینے دیا لے جا پیغام میرا
آکھیں حضور تائیں اللہ دے نور تائیں
سَد لو دوارے اُتے روضے پیارے اُتے
خوشیاں فیر خوب مناواں سو سو میں شکر بجاواں
پھر تے ہو جاون عیداں سبھے بھر آؤن امیداں
دساں کی تینوں راہیا کی تو پچھنا ایں ماہیا
— Unknown
سرکار بلائیں گے گلیوں میں مدینے کی
وہ اپنے غلاموں کو محروم رکھیں گے
دنیا کے خزانے کیا عقبیٰ کے خزانے بھی
جو پیاسے ہیں دیوانے اُن کو وہ مۓ الفت
جو روکتے ہیں ظالم طیبہ کی زیارت سے
اپنا تو یہ ایماں ہے سب کچھ ہے مدینے میں
عشاق چلے طیبہ سرکار کے روضے پر
واں گنبدِ خضریٰ کے پرنور نظارےہیں
غم اپنے غلط ہوں گے سائل جو وہاں چل کر
— Unknown
تم ظہور اویس ہو یا محمد مصطفیٰؐ
مخبر صادق ہو تم اور حضرت خیرالوریٰ
— Nazir Akbar Abadi\
ہم گنہگاروں کوسرکار سنبھالے ہوں گے
نورآنکھوں مین توچہروں پہ اُجالےہوں گے
شافعِ حشر کی رحمت انہیں دھو ڈالےگی
نزع میں ان کے تصور سے مقدر چمکا
جو لٹاتے ہیں محمد پہ اثاثہ اپنا
دُکھ مٹاتا ہےفقط ایک اشارہ اُن کا
— Unknown
افضل ہے مرسلوں میں رسالت حضورؐ کی
ہے ذرہ ذرہ اُن کی تجلی کا اک سراغ
پہچان لیں گے آپ وہ اپنوں کو حشر میں
آنکھیں نہ ہوں تو خاک نظر آۓ آفتاب
میری نظر میں مرشدِ کامل ہے وہ بشر
انجم مثالِ نقشِ قدم جا بجا ملے
میں ہوں زبانِ ماہ و ثریا سے آشنا
آہستہ سانس لے کہ خلافِ ادب نہ ہو
آنکھوں کو اپنی چومتا رکھ رکھ کے آئینہ
چشمِ طلب میں کس کا اجالا؟ حضورؐ کا
دانش میں خوفِ مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز
— Ehsaan Danish\
سیدی مرشدی یا نبی یا نبی
کملی والے نبی اک نگاہِ کرم
ہم پہ کطف و عنایت فرمایۓ
کھول کے بیٹھی سرکار ہیں جھولیاں
میرے حاجت روا میرے مشکل کشا
ہو یہ آباد دل کا چمن جاۓ گا
تیرا قبضہ ہے محبوب ہر چیز پر
سب سے اعلیٰ تریں تیری سرکار ہے
— Saim Chishti\
یا اللہ یا رحمٰن
واسطہ نبیوں کے سرور کا
مولیٰ ! مجھ کو نیک بنا دے
نارِ جہنم سے تو اماں دے
واسطہ شاہ جود و سخا کا
بہرِکوثر و بئرِ زم زم
حاضر در ہوں میں دکھیارا
بخش دے میری ساری خطائیں
جتنے بھائی آۓ ہوۓ ہیں
نیکی کی دعوت عام ہو جاۓ
— Unknown
نعت کی رم جھم لبِ تشنہ پہ لہرانےلگی
میں نےاوراقِ دعا پر لکھ لیا اِسم رسولﷺ
آنسوؤں میں جب شبیہہِ گنبد خضریٰ بنی
محفلِ میلاد ہےیہ آمنہ کےلال کی
آج گزریں گےشہنشاہِ رسل اس سمت سے
تذکرہ بادِ صبا چھیڑے درِسرکارکا
جب سرِمحشرحساب نیک و بدہونےلگا
دل کے آنگن کا مقدرجاگ اٹھا ہےریاض
— Riaz Hussain Chaudhary\