سرکار بلائیں گے گلیوں میں مدینے کی
وہ اپنے غلاموں کو محروم رکھیں گے
دنیا کے خزانے کیا عقبیٰ کے خزانے بھی
جو پیاسے ہیں دیوانے اُن کو وہ مۓ الفت
جو روکتے ہیں ظالم طیبہ کی زیارت سے
اپنا تو یہ ایماں ہے سب کچھ ہے مدینے میں
عشاق چلے طیبہ سرکار کے روضے پر
واں گنبدِ خضریٰ کے پرنور نظارےہیں
غم اپنے غلط ہوں گے سائل جو وہاں چل کر
— Unknown
