امیرِ خلد کا اعجاز دیکھوں
سرِ شبرِ نبیؐ الحمد للہ
جونہی پلکوں پہ آنسو جھلملائیں!
اَڑوں خوابوں میں طیبہ کی فضا میں
درخشاں رخ، چمکتی سی جبینیں
میں جب الجھوں کسی الجھن میں راسخ
— Rasikh Irfani\
امیرِ خلد کا اعجاز دیکھوں
سرِ شبرِ نبیؐ الحمد للہ
جونہی پلکوں پہ آنسو جھلملائیں!
اَڑوں خوابوں میں طیبہ کی فضا میں
درخشاں رخ، چمکتی سی جبینیں
میں جب الجھوں کسی الجھن میں راسخ
— Rasikh Irfani\
اگر کملی والے کی رحمت نہ ہوتی تو قسمت کے ماروں کا کیا حال ہوتا
وہ آقا وہ مولا وہ داتا ہمارے خدائی کے پیارے خدا کے دُلارے
نہ یہ پھول کھلتے نہ کلیاں مہکتیں نہ گلزار ہنستے نہ گلیاں مہکتیں
محمد ﷺ کا جلوہ ہے جلوہ خدا کا محمد ﷺ کا پردہ ہے پردہ خدا کا
کسے حال دل اپنا انورؔ سناتے کہاں پھر اماں اہلِ توحید پاتے
— Unknown
پہنچ ہی جائیں گے اک دن کسی قرینے سے
حضورؐ پاس بلا لیجۓ خدا کے لیے
نثار میرے دل و جاں ربیع الاول پر
یہاں کی خاک کے ذرے ہیں عطر پیراہن
محمدؐ عربی ناخدا ہیں اے راغب!
— Raghib Muradabadi\
ہرزباں پہ چرچا ہے ان کے آستانے کا
بھیک لے کے آقا سے چاند مسکراتاہے
آقا نے غلاموں کو اس لئے بلایا ہے
ان کی پیاری یادوں سے اشک اشک آنکھیں ہیں
عکس میری آنکھوں میں دیکھ لو مدینے کا
دربدرنہیں جاتا ان سے مانگنے والا
صائم اور رضا حامی ان کے سب ہیں دیوانے
— Unknown
مرا دل اور مری جان مدینے والےؐ
تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو کہاں میں جاؤں
بھردے بھردے مرے داتا مری جھولی بھردے
آڑے آئی ہے تری ذات ہر اک دکھیا کے
پھر تمناۓ زیارت نے کیا دل بے چین
سگِ طیبہ مجھے سب کہہ کے پکاریں بیدم
— Bedam Shah Warsi\
جمالِ ذات ہے نور محمدؐ عربی
دلکلیم ہے اس کے کلام سے روشن
خود آگہی کا سبق معرفت محمدؐ کی
شہنشی کی جلالت الوہیت کا شکوہ
یہ انبیا کی تجلی یہ اولیاء کا جمال
وہی ہے لشکرِ توحید کا مزاج شناس
رباب کن کی ہے آواز بازگشت رئیس
— Raees Amrohvi\
یا خدا ایک دن جذبہء عاشقی یہ کرشمہ دکھاۓ تو کیا بات ہے
وہ مدینہ جو کونین کا تاج ہے جس کا دیدار مومن کی معراج ہے
جس پہ ہو جاۓ اُن کی نگاہِ کرم جا کے واپس نہ آۓ تو کیا بات ہے
اپنا غم اپنا دکھ اپنی مجبوریاں اس لیے سب سے رو رو کے کہتا ہوں میں
مجھ کو الفت کا اتنا صلہ چاہیے خاک ہوں خاکِ طیبہ میں مل جاؤں میں
— Unknown
محفل سجی ہوئی ہے درود و سلام کی
انؐ سے لگائی لو تو میرے ہاتھ آگئی
گردش لہو کی گردشِ تسبیح بن گئی
معراج جس کو کہتے ہیں وہ ہے مرے خدا
فردوس کا وہ قصر جہاں داخلہ ہے بند
ہم نے حضور پاکؐ کا دامن پکڑ لیا
سلمانؔ تجھ کو خیر ملے عافیت ملے
— Syed Sulaiman Rizvi\
ہر پیغمبر کا عہدہ بڑا ہے لیکن آقا کا منصب جدا ہے
کوئی لفظوں میں کیسے بتا دے اُن کے رتبے کی حد ہے تو کیا ہے
نام جنت کا تم نے سنا ہے میں نے اس کا نظارا کیا ہے
کتنا پیارا ہے موسم وہاں کا کتنی پر کیف ساری فضا ہے
مستقل ان کی چوکھٹ عطا ہو میرے معبود یہ التجا ہے
وہ جو اک شہرنورالہدی ہے جلوہ گاہوں کا اک سلسلہ ہے
— Unknown
ہیری سکھیری مورےپیا گھر آۓ
اپنے پیا کے میں بل بل جاؤں
میں توپڑی تھی آس لگائے
اپنے پیا کی میں دیکھ سرتیا
جس کا پی سنگ بیتے ساون
جس ساون میں پیا گھر ناہیں
اپنے پیا کو میں کِس بن بھاؤں
تم ہی جتن کرو موری سجنی
اپنے پیا بن چین نہ کائی
آج سکھیری تم سو نہ جانا
— Unknown