جن و اِنسان و مَلک کو ہے بھروسا تیرا
واہ اے عطرِ خدا ساز مہکنا تیرا
دہر میں آٹھ پہر بٹتا ہے باڑا تیرا
لامکاں میں نظر آتا ہے اُجالا تیرا
جلوۂ یار اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا
یہ نہیں ہے کہ فقط ہے یہ مَدینہ تیرا
کیا کہے وصف کوئی دشتِ مَدینہ تیرا
کس کے دامن میں چھپے کس کے قدم پر لوٹے
خسروِ کون و مکاں اور تواضع ایسی
خوبرویانِ جہاں تجھ پہ فدا ہوتے ہیں
دشت پرہول میں گھیرا ہے درندوں نے مجھے
بادشاہانِ جہاں بہرِ گدائی آئیں
دشمن و دوست کے منہ پر ہے کشادہ یکساں
پاؤں مجروح ہیں منزل ہے کڑی بوجھ بہت
نیک اچھے ہیں کہ اَعمال ہیں ان کے اچھے
آفتوں میں ہے گرفتار غلامِ عجمی
اُونچے اُونچوں کو ترے سامنے ساجد پایا
خارِ صحرائے نبی پاؤں سے کیا کام تجھے
کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں
اچھے اچھے ہیں تِرے دَر کی گدائی کرتے
بھیک بے مانگے فقیروں کو جہاں ملتی ہے
کیوں تمنا مِری مایوس ہو اے اَبرِ کرم
ہائے پھر خندۂ بے جا مِرے لب پر آیا
حشر کی پیاس سے کیا خوف گنہگاروں کو
سوزنِ گمشدہ ملتی ہے تبسم سے تِرے
صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے
خاص بندوں کے تصدق میں رِہائی پائے
بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے اَبرو
حشر کے روز ہنسائے گا خطاکاروں کو
عمل نیک کہاں نامۂ بدکاراں میں
بہرِ دیدار جھک آئے ہیں زمیں پر تارے
اونچی ہو کر نظر آتی ہے ہر اِک شے چھوٹی
اے مدینے کی ہوا دِل مِرا اَفسردہ ہے
میرے آقا ہیں وہ اَبر کرم اے سوزِ اَلم
اب حسنؔ منقبت خواجۂ اَجمیر سنا
— Hassan Raza Khan Barelvi\