حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
کچھ ایسا آپ کو حق نے کیا ہے
بلند اتنا تجھے حق نے کیا ہے
جو اَوروں کے علو کی اِنتہا ہے
خدا کی ذات تک تو ہی رَسا ہے
نہ ہے تم سا نہ کوئی ہوگا آگے
ملائک میں رُسل میں انبیا میں
تَعَالَی اللہ تیری شانِ عالی
نکالی زَورَقِ خورشید ڈوبی
تمہیں ہو دوسرا میں سب سے بالا
تری صورت سے ہے حق آشکارا
نہیں ہوسکتا تجھ سے کوئی باہر
تو ہے نورِ خدا پھر سایہ کیسا
تو ہے ظل خدا وَاللہ بِاللہ
زمیں پر تیرا سایہ کیسے پڑتا
خدا کا فضلِ اَعظم آپ پر ہے
نہ منّت تم پہ اُستادوں کی رکھی
ہتھیلی کی طرح پیشِ نظر ہے
نہ کوئی راز ہو پوشیدہ تم سے
چھپا تم سے رہے کیونکر کوئی راز
مُسَلَّط غیب پر تو کیوں نہ ہوتا
تری مرضی رضائے حق ہے مولیٰ
گزر تیرا ہوا ہے جو گلی سے
دُرودیں تم پہ حق کی ہوں ہمیشہ
دُرود اس پر ہو جس پر حق دُرودیں
سلام اس پر جو ہے مطلوب رب کا
سلام اس پر یہ بحر و بر ہیں جس کے
جس آقا کے ملائک ہیں سلامی
خدا کی سلطنت کا جو ہے دولہا
جسے سنگ و شجر تسلیمیں کرتے
سلام اس پر جو اَوَّل ہے رُسل کا
سلام اَوَّل کا اَوَّل پر ہمیشہ
سلام آخر کا آخر پر ہو دائم
سلامِ ظاہر و باطن ہو اس پر
سلام اے جانِ رحمت کانِ نعمت
رہے جلوہ تمہارا دل کے اندر
رہے پیش نظر وہ رُوئے اَنور
شرابِ دِید سے دِل شاد کیجے
یہیں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ
دمِ آخر تو آجا جانِ عیسیٰ
دمِ آخر چلے آؤ خدارا
ترے قدموں میں جس کو موت آئے
ہٹا دیجے رخِ اَنور سے گیسو
سُنگھا دیجے ہمیں وہ زُلفِ مُشکیں
دکھا دیجے شہا پُرنور چہرہ
ترے قربان اے زُلفِ مُعَنْبَر
مرے سر سے بلائیں دُور فرما
نحیف و ناتواں سرکار ہم ہیں
پریشاں ہوں پریشانی کرو دُور
نہ کیجے دُور اپنے در سے ہم کو
شہیدِ کربلا کا صدقہ دے دے
پریشاں ہوں پریشانی کرو دور
پریشانی وطن کی یاد کرکے
پریشانی ہے ُگوناُگوں وطن میں
یہاں کیوں کر نہ دل آرام پائے
میں گھر جاؤں تو ان میں گھر نہ جاؤں
رُموزِ مصلحت سرکار جانیں
مگر اتنی گزارش کی اجازت
ہمیں پھر اپنے قدموں میں بلانا
کہ پھر سرکار کے قدموں میں لائے
قیامت ہے قیامت ہے قیامت
زمیں تابنے کی ہے سورج سروں پر
ذرا سا بھی نہیں سایہ کہیں پر
زبانیں سوکھی ہیں کانٹے جمے ہیں
کلیجے منہ کو آئے دَم گھٹے ہیں
سراپا کوئی تو غرقِ عرق ہے
تڑپتا ہے کوئی بے چین ہو کر
مثالِ ماہیٔ بے آب کوئی
عجب ہی َکس مپرسی کا ہے عالم
زَن و شو میں نہیں باقی تعارُف
نہ کوئی آج حامی ہے نہ یاوَر
بُرے اَحوال ہیں اس روز اُف اُف
کوئی ہانپے کوئی کانپے کراہے
ہے داروگیر کا ہنگامہ برپا
رُسل بھی نفسی نفسی کہہ رہے ہیں
بندھے گی آس اپنی بعدِ ہر یاس
اسی کے پاس سب پہنچیں گے آخر
شفاعت کا اسی کے سر ہے سہرا
چلو اے عاصیو کیوں ُکڑھ رہے ہو
مَلُول اے غم زَدو تم کس لیے ہو
سنیں گے سننے والے اِذْھَبُوْا کے
مظالم کرلیں جتنے ہوویں ظالم
— Mustafa Raza Khan Noori\