Jhuke Na Baar e Sadd Ehsan (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

جھکے نہ بارِ صد احساں سے کیوں بنائے فلک

یہ خاکِ کوچۂ جاناں ہے جس کے بوسہ کو

عفو و عظمت خاکِ مدینہ کیا کہئے

یہ ان کے جلوے کی تھیں گرمیاں شب اسری

قدم سے ان کے سر عرش بجلیاں چمکیں

میں غم نصیب بھی تری گلی کا کتا ہوں

یہ کس کے در سے پھرا ہے تو نجدیٔ بے دیں

جو نام لے شہِ عرشِ بریں کا تو اخترؔ

— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\

Khuda Ke Fazal Se (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

خدا کے فَضْل سے میں ہوں گدا فاروقِ اعظم کا

کرم اللہ کا ہر دم نبی کی مجھ پہ رَحمت ہے

پسِ صدّیقِ اکبر مصطَفٰے کے سب صحابہ میں

گلی سے ان کی شیطاں دُم دبا کر بھاگ جاتا ہے

صحابہ اور اہلِ بیت کی دل میں محبت ہے

رہے تیری عطا سے یاخدا! تیری عنایت سے

بھٹک سکتا نہیں ہرگز کبھی وہ سیدھے رستے سے

خدا کی خاص رحمت سے محمد کی عنایت سے

سدا آنسو بہائے جو غَمِ عشقِ محمد میں

مجھے حجّ وزیارت کی سعادت اب عنایت ہو

الٰہی! ایک مدّت سے مِری آنکھیں ترستی ہیں

شہادت اے خدا! عطّارؔ کو دیدے مدینے میں

— Muhammad Ilyas Atar Qadri\

Khushiyan Manao Bhaiyo (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

خوشیاں مناؤ بھائیو! سرکار آگئے

سب جھوم جھوم کر کہو سرکار آگئے

وہ غمزدوں کے حامی و غم خوار آگئے

وہ مسکراتے خلق کے سردار آگئے

ہے آج جشنِ آمدِ سرکار چار سو

خوشیوں کے لمحے آگئے دیوانے جھوم اُٹھے

دائی حلیمہ میں تری تقدیر پر نثار

پڑھتے دُرُود سارے ہی تعظیم کو اُٹھو

دیوانو! آؤ آمنہ بی بی کے گھر چلیں

لہراؤ سبز پرچم اے اسلامی بھائیو!

ہوتے ہی پیدا،کرتے ہیں اُمّت کو یاد آپ

رکّھو گناہ گارو نہ اب خوف حشر کا

اے غمزدو! تمہاری تو بس عید ہو گئی

یارب! کرم ہو از پئے مِیلادِمصطَفیٰ

صَدقہ حُضور! آپ کے میلادِ پاک کا

صَدقہ بٹے گا آمِنہ بی بی کے گھر میں

پُھولے نہیں سماتے ہیں عطّارؔ آج تو

— Muhammad Ilyas Atar Qadri\

Haqiqat Aap Ki Haq Janta Hai (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

حقیقت آپ کی حق جانتا ہے

کچھ ایسا آپ کو حق نے کیا ہے

بلند اتنا تجھے حق نے کیا ہے

جو اَوروں کے علو کی اِنتہا ہے

خدا کی ذات تک تو ہی رَسا ہے

نہ ہے تم سا نہ کوئی ہوگا آگے

ملائک میں رُسل میں انبیا میں

تَعَالَی اللہ تیری شانِ عالی

نکالی زَورَقِ خورشید ڈوبی

تمہیں ہو دوسرا میں سب سے بالا

تری صورت سے ہے حق آشکارا

نہیں ہوسکتا تجھ سے کوئی باہر

تو ہے نورِ خدا پھر سایہ کیسا

تو ہے ظل خدا وَاللہ بِاللہ

زمیں پر تیرا سایہ کیسے پڑتا

خدا کا فضلِ اَعظم آپ پر ہے

نہ منّت تم پہ اُستادوں کی رکھی

ہتھیلی کی طرح پیشِ نظر ہے

نہ کوئی راز ہو پوشیدہ تم سے

چھپا تم سے رہے کیونکر کوئی راز

مُسَلَّط غیب پر تو کیوں نہ ہوتا

تری مرضی رضائے حق ہے مولیٰ

گزر تیرا ہوا ہے جو گلی سے

دُرودیں تم پہ حق کی ہوں ہمیشہ

دُرود اس پر ہو جس پر حق دُرودیں

سلام اس پر جو ہے مطلوب رب کا

سلام اس پر یہ بحر و بر ہیں جس کے

جس آقا کے ملائک ہیں سلامی

خدا کی سلطنت کا جو ہے دولہا

جسے سنگ و شجر تسلیمیں کرتے

سلام اس پر جو اَوَّل ہے رُسل کا

سلام اَوَّل کا اَوَّل پر ہمیشہ

سلام آخر کا آخر پر ہو دائم

سلامِ ظاہر و باطن ہو اس پر

سلام اے جانِ رحمت کانِ نعمت

رہے جلوہ تمہارا دل کے اندر

رہے پیش نظر وہ رُوئے اَنور

شرابِ دِید سے دِل شاد کیجے

یہیں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ

دمِ آخر تو آجا جانِ عیسیٰ

دمِ آخر چلے آؤ خدارا

ترے قدموں میں جس کو موت آئے

ہٹا دیجے رخِ اَنور سے گیسو

سُنگھا دیجے ہمیں وہ زُلفِ مُشکیں

دکھا دیجے شہا پُرنور چہرہ

ترے قربان اے زُلفِ مُعَنْبَر

مرے سر سے بلائیں دُور فرما

نحیف و ناتواں سرکار ہم ہیں

پریشاں ہوں پریشانی کرو دُور

نہ کیجے دُور اپنے در سے ہم کو

شہیدِ کربلا کا صدقہ دے دے

پریشاں ہوں پریشانی کرو دور

پریشانی وطن کی یاد کرکے

پریشانی ہے ُگوناُگوں وطن میں

یہاں کیوں کر نہ دل آرام پائے

میں گھر جاؤں تو ان میں گھر نہ جاؤں

رُموزِ مصلحت سرکار جانیں

مگر اتنی گزارش کی اجازت

ہمیں پھر اپنے قدموں میں بلانا

کہ پھر سرکار کے قدموں میں لائے

قیامت ہے قیامت ہے قیامت

زمیں تابنے کی ہے سورج سروں پر

ذرا سا بھی نہیں سایہ کہیں پر

زبانیں سوکھی ہیں کانٹے جمے ہیں

کلیجے منہ کو آئے دَم گھٹے ہیں

سراپا کوئی تو غرقِ عرق ہے

تڑپتا ہے کوئی بے چین ہو کر

مثالِ ماہیٔ بے آب کوئی

عجب ہی َکس مپرسی کا ہے عالم

زَن و شو میں نہیں باقی تعارُف

نہ کوئی آج حامی ہے نہ یاوَر

بُرے اَحوال ہیں اس روز اُف اُف

کوئی ہانپے کوئی کانپے کراہے

ہے داروگیر کا ہنگامہ برپا

رُسل بھی نفسی نفسی کہہ رہے ہیں

بندھے گی آس اپنی بعدِ ہر یاس

اسی کے پاس سب پہنچیں گے آخر

شفاعت کا اسی کے سر ہے سہرا

چلو اے عاصیو کیوں ُکڑھ رہے ہو

مَلُول اے غم زَدو تم کس لیے ہو

سنیں گے سننے والے اِذْھَبُوْا کے

مظالم کرلیں جتنے ہوویں ظالم

— Mustafa Raza Khan Noori\

Amna Atariya Hajj Ko Chale (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

آمِنہ عطاریہ حج کو چلے اُمّید ہے

مرحبا تم کو مبارَک ہو مدینے کاسفر

یاخُدا! آسان ہو اِس کیلئے حج کا سفر

رونے والی آنکھ دے اور چاک سینہ کر عطا

ذرّے ذرّے کا ادب اللہ اِس کو ہو نصیب

امتِحاں درپیش ہو راہِ مدینہ میں اگر

کوئی دُھتکارے یا جھاڑے بلکہ مارے صَبر کر

راہِ جاناں کا ہراِک کانٹا بھی گویا پھول ہے

تم زَباں کا آنکھ کا ’’قُفلِ مدینہ‘‘ لو لگا

گفتگو صادِر نہ کچھ بے کار ہو اِحرام میں

جب کرے تُو خانۂ کعبہ کا رو رو کر طواف

تیرا حجّن! جس گھڑی ہو داخِلہ عَرفات میں

حالتِ اِحرام میں یادِ کَفَن ہو قَبْر ہو

نو کو جب عَرفات میں حاجی اِکٹھّے ہوں سبھی

جس گھڑی کرنے لگے قُرباں مِنٰی میں جانور

حاضِری ہو جب مدینے میں تمہاری حَجَّنو!

لے کے حجّن! بارگاہِ مصطفٰے میں میرا نام

رو کے کرنا میرے ایماں کی حفاظت کی دُعا

اِس کا حج یارب! نبی کا واسِطہ کر لے قَبول

اپنے مُنہ سے خود کو حجّن تُو کبھی کہنا نہیں

ہر برس حج کا شَرَف پاؤ مدینے جاؤ تم

کرنا تم عطارؔ کے حق میں دعائے مغفِرت

— Muhammad Ilyas Atar Qadri\

Hukam Yazdan Se Mila (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

حکمِ یزداں سے ملا، اذنِ پیمبر سے ملا

کب سے اس خانۃ آفت میں مقیدی تھی میں

جلد لے چل مجھے اے شوقِ سفر ان کی طرف

قُلزمِ اشک بہاتی ہوئی پہنچوں گی وہاں

ایک اک بوند سے سو پیاس بجھالوں گی میں

رمزِ تخلیق جہاں، خلقتِ احمد میں نہاں

از ازل تا بہ ابد، راہ ہدایت ہے کھلی

لکھ سکا کون سرِ عرش ملاقات کا حال

اے مرے خواب دکھا نقشِ کفِ پاۓ رسولؐ

ات زمانے، تو مجھے روندکے رکھ دے لیکن

عصر حاضر کے سوالات کی زد پر ہے یہ عقل

زخم کھا کھا کے دعائیں تھیں لبوں پر جسؐ کے

دیں کی تلقین کا آغاز ہوا تھا جس جا

انؐ کی امت میں رکھا بختِ رسا نے مجھ کو

— Shahida Hassan\

Asalat o Wasalam Aye Sarwar (Durood-O-Salam) | Best Durood-o-salam Lyrics in Urdu | Naat Lines

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے سروَرِ عالی مقام

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے مظہر ذات السلام

یَا حَبِیْبَ اللہِ اَنْتَ مَھْبِطُ الْوَحْیِ الْمُبِیْں

یَا رَسُوْلَ اللہِ اَنْتَ صَادِقُ الْوَعْدِ الْاَمِیْں

اے شہِ عرش آستاں اے سروَرِ کون و مکاں

اے مرے اَمن و اَماں اے سروَرِ ہر دو جہاں

اے کہ تیری ذاتِ عالی سر ہر موجود ہے

اے وہ جس کا دَر درِ فیض و سخا و جود ہے

اے وہ جس کا رب ہے شاہد اور وہ مشہودہے

اے وہ جس کا رب ہے قاصد اور وہ مقصود ہے

قبلۂ کونین ہیں سرکار اِمَامُ الْقِبْلَتَیْن

دُور دَر سے جو ہوا تو پھر کہاں یہ امن و چین

اے شہنشاہِ دوعالم شافعِ روزِ قیام

حاضرِ دَر آج ہیں سرکار کے رَضوی غلام

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام

— Mustafa Raza Khan Noori\

Bohat Markaz Mein Hun (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

بہت مرکز میں ہوں، جس دن سے اس محور میں ہوں میں

خدایا اور ہو، نظارگی میں، اور نم ہو

کوئی سمجھا گیا تھا بھیڑ میں اس طرح چلنا

کہاں پھر دو گھروں کا ایک گھر، بس ایک ہی گھر

یہ آغے پیچھے ہر وقت آتے جاتے قافلے ہیں

مگر وہ آسماں کیا ہے، کہاں ہے اور کیوں ہے

پلٹتا ہوں، پلٹنے والوں میں ہوں بھی نہیں پر

— Shaheen Abbas\