نم نگاہوں سے وضو کرتا ہوں میں
آخری ہچکی ہو اور آقاؐ کا در
کاش مل جاۓ غلامی کی سند
ذکر ہاۓ احمدِ مختارؐ سے
ہے وہ ہستی مرکزِ دنیا و دیں
— Shakir Kandan\
نم نگاہوں سے وضو کرتا ہوں میں
آخری ہچکی ہو اور آقاؐ کا در
کاش مل جاۓ غلامی کی سند
ذکر ہاۓ احمدِ مختارؐ سے
ہے وہ ہستی مرکزِ دنیا و دیں
— Shakir Kandan\
وہ چھائی گھٹا بادہ بارِ مدینہ
وہ چمکا وہ چمکا منارِ مدینہ
نہا لیں گنہ گار ابر کرم میں
خدا یاد فرمائے سوگند طیبہ
اگر دیکھے رضواں چمن زارِ طیبہ
مدینے کے کانٹے بھی صد رشک گل ہیں
نہیں جچتی جنت بھی نظروں میں ان کی
مری جان سے بھی وہ نزدیک تر ہیں
کروں فکر کیا میں غمِ زندگی کی
چلا دورِ ساغر مئے ناب چھلکی
چلا کون خوشبو لٹاتا کہ اب تک
سحر دن ہے اور شام طیبہ سحر ہے
بلا اخترؔ خستہ جاں کو بھی در پر
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
نعتِ رسولؐ میرا اثاثہ بنا رہے
لفظوں کو جوڑ کا حاصل ہے جو ہنر
سانسوں میں ہو درود کی خوشبو بسی ہوئی
میرے خدا مجھے بھی وہ اسباب کر عطا
آۓ زباں پہ اسمِ محمدؐ جو کوثریؐ
— Shahid Kausari\
کون ایسا ہے جسے خیرِالوَریٰ نے نہ دیا
آپ کے دِین کا مُنکِر ہے نرا ناشکرا
جس کو تم نے دیا اللہ نے اس کو بخشا
آپ کے رَب نے دِیا آپ کو فضلِ کُلّی
وہ فضائل تمہیں بخشے ہیں خدا نے جن کا
مثل ممکن ہی نہیں ہے ترا اے لاثانی
آپ کے جوڑ کا آئے تو کہاں سے آئے
آدَم و نوح براہیم کلیم و عیسیٰ
باوجود اس کے تمہیں جو ملا ان کو نہ ملا
سب مطالب مرے برآئے کرم سے اُن کے
کیسی پُرنور ہے جنت کی فضا اے نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
رُوسیاہوں پر کرم اے دو جہاں کے تاجدار
حُسنِ گلشن میں سَراسَر ہے فریب اے دوستو
راہ بھولا آہ منزِل سے بھٹک کر رہ گیا
ہم غریبوں کو مدینے میں بلا لو یانبی
گر مقدَّر میں مرے دُوری لکھی ہے یانبی
اُن کا دیوانہ عِمامہ اور زُلف و رِیش میں
کاش! خدمت سنّتوں کی میں سد ا کرتا ر ہوں
ہیں علی مشکل کشا سایہ کناں سر پر مرے
یاشہیدِ کربلا! ہو دُور ہر رنج و بلا
المدد یاغوثِ اعظم دَست گِیرِ بے کساں
یامُعینَ الدّین! آؤ اب مدد کے واسطے
یاامام احمدرضا! صدقہ ضیاءُالدین کا
مصطَفٰے والی ترے عطّارؔ ڈر کس بات کا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
عاشقو ورد کرو صلّ علیٰ آج کی رات
زیب دنیا ہوئے وہ شاہِ ہدیٰ آج کی رات
پھیلی عالم میں محمد کی ضیا آج کی رات
مانگ لو مانگنا ہو جس کو دعا آج کی رات
نار فارَس کی بجھی نورِ الٰہی چمکا
خشک ساوا ہے سماوا میں ہے دریا جاری
اس لیے نصب کیا سبز علم کعبہ پر
اہل توحید سے تکبیر کا وہ شور اٹھا
زلزلہ آ گیا شق ہو گیا قصر کسریٰ
شمع توحید سے روشن ہوا سارا عالم
سرنِگوں ہو گئے بت روے زمیں کے سارے
سر افلاک خمیدہ ہے فلک کے آگے
آسماں ہوتا ہے قرباں یہ زمیں سے کہہ کر
جانور دیتے ہیں آپس میں مبارک بادی
گل وہ پھولا ہے مہک جائیں گے دونوں عالم
خلق پر برسیں گے اب خوب کرم کے جھالے
آ رہے ہیں درِ اقدس پہ مرادیں لینے
کسی بیکس کی زباں پر یہ صدا ہے پیہم
اپنے محبوب کی اللہ نے امت میں کیا
اے جمیلؔ رضوی وصفِ نبی کر اتنا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
آج کی رات ضیائوں کی ہے بارات کی رات
شب معراج وہ اَوْحیٰ کے اشارات کی رات
چھائی رہتی ہیں خیالوں میں تمہاری زلفیں
رِند پیتے ہیں تری زلف کے سائے میں سدا
رخِ تابانِ نبی زلف معنبر پہ فدا
دل کا ہر داغ چمکتا ہے قمر کی صورت
ہر شب ہجر لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی
جس کی تنہائی میں وہ شمع شبستانی ہو
بلبل باغِ مدینہ کو سنا دے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
کن کا حاکم کردیا اللہ نے سرکار کو
کچھ عرب پر ہی نہیں موقوف اے شاہِ جہاں
کاٹ کر یہ خود سر میں گھس کے بھیجا چاٹ لے
اس کنارے ہم کھڑے ہیں پاٹ ایسا دَھار یہ
رَبِّ سَلِّم کی دُعا سے پار بیڑا کیجئے
تو ہے وہ شیریں دَہن کھاری کنویں شیریں ہوئے
جس نے جو مانگا وہ پایا اور بے مانگے دیا
دل میں گھر کرتا ہے اَعدا کے ترا شیریں سخن
ظلمتِ مرقد کا اَندیشہ ہو کیوں نوریؔ مجھے
— Mustafa Raza Khan Noori\
ذرّے ذرّے پہ چھایا ہوا نُور ہے،میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے
نُور پھولوں میں ہے نُور کلیوں میں ہے،نُور بازار میں نُور گلیوں میں ہے
ہر طرف رحمتوں کی ہے چھائی گھٹا، مَہکی مَہکی ہے کیا خُوب مَدنی فَضا
کیا بیاں دَشتِ طیبہ کی ہوں خُوبیاں ،پھُول تو پُھول کانٹے بھی دِلکش یہاں
کَیف ومستی میں ڈوبے ہوئے رات دِن،بھینی خوشبُوسے مَہکے ہوئے رات دِن
باغِ طَیبہ میں رہتی ہے ہَردم بَہار،آکے دیکھویہاں کا سَماں خُوشگوار
غمزدہ جو بھی دربار میں آگیا،شاہ کی وہ نگاہِ کرم پاگیا
دیکھو طیبہ کو کیسی فضیلت ملی، قبر انور اسی میں بنائی گئی
سَبْز گُنبد کے جلووں پہ قُربان جاں ، بلکہ قُربان ہے حُسنِ کَون و مکاں
خاکِ طیبہ میں رکّھی ہے رب نے شِفا،ساری بیماریوں کی ہے اس میں دَوا
آس مُجھ کو تمہارے کرم کی شہا،بھیک دے دو مجھے اپنے غم کی شہا!
پھر کرم اس پہ سرکار کا ہوگیا، بخت بیدار عطّارؔ کا ہوگیا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
قفسِ جسم سے چھٹتے ہی یہ پَرّاں ہوگا
روز و شب مرقدِ اَقدس کا جو نگراں ہوگا
اُس کی قسمت کی قسم کھائیں فرشتے تو بجا
اس کی فرحت پہ تصدق ہوں ہزاروں عیدیں
چمنِ طیبہ میں تو دل کی کلی کھلتی ہے
وہ گلستاں ہے جہاں آپ ہوں اے جانِ جناں
آپ آجائیں جو چمن سے تو چمن جانِ چمن
جانِ اِیماں ہے محبت تری جانِ جاناں
دَردِ فرقت کا مَداوا نہ ہوا اور نہ ہو
جس نے تبرید بتائی خفقاں ہوگا اُسے
کہربائی نہ ہو کیوں رنگ مرے چہرے کا
نورِ اِیماں کی جو مَشعَل رہے روشن پھر تو
اِک غزل اَور چمکتی سی سنادے نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\