اللہ اللہ بندے ہر دم اللہ ہو
سب کچھ جانے جان بوجھ کر بنے ہے کیوں انجان
اللہ اللہ بندے ہر دم اللہ ہو
ایک سانس کا پنچھی ہے تو کون تجھے سمجھاۓ
اللہ اللہ بندے ہر دم اللہ ہو
نیند سے آنکھیں کھول اے بھیا کیسی ہے یہ پریت
— Riaz Hussain Chaudhary\
اللہ اللہ بندے ہر دم اللہ ہو
سب کچھ جانے جان بوجھ کر بنے ہے کیوں انجان
اللہ اللہ بندے ہر دم اللہ ہو
ایک سانس کا پنچھی ہے تو کون تجھے سمجھاۓ
اللہ اللہ بندے ہر دم اللہ ہو
نیند سے آنکھیں کھول اے بھیا کیسی ہے یہ پریت
— Riaz Hussain Chaudhary\
مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
طوافِ کوچۃ جاناں کے قابل کون سمجھے گا
کہاں میں اور کہاں اس روضۃ اقدس کا نظارہ
مدینے جاکے ہم سمجھے تقدس کِس کو کہتے ہیں
وہی اقبالؔ جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
— Iqbal Azeem\
غوثِ اعظم شاہِ جیلاں منجدار میں نَیا ہے
میں بھی رحم کے قابِل ہوں دُکھ درد کا مارا ہوں
خاک چیز پے شاہِ جیلاں رحمت کی نظر کری او
— Unknown
حاضر ھیں تیرے دربار میں ہم اللہ کرم اللہ
ہیبت سے ہر اک گردن خم ہے ہر آنکھ نم ہے
گن لوگوں پہ ہے انعام ترا ان لوگوں میں لکھ دے نام مرا
ھر سال طلب فرما مجھ کو ہر سال وہ شہر دکھا مجھ کو
میری آنے والی سب نسلیں ترے گھر آئیں ترا در دیکھیں
اس ورد میں عمر کٹے ساری ہونٹوں پہ صبیح رہے جاری
— Sabeeh Rehmani\
مدینے کے والی ﷺ مدینے بُلا لو
ہاں پیغام لانا میری حاضری کا
تیرے در پہ آؤں میں بن کے سوالی
غریبوں کے مولا ﷺ یتیموں کے والی ﷺ
ادھر بھی نگاہِ کرم ہو خدارا
میری عمر گزرے تیری بارگاہ میں
مقدر میں میرے وہ نوری گھڑی ہو
درِ مصطفیٰ ﷺ پر مری حاضری ہو
نگاہوں میں ہوں سبز گنبد کے جلوے
شب و روز گزریں نیازیؔ کے آقاﷺ
— Abdul Sattar Khan Niazi\
نئیں جاندا زمانہ عظمت صدیق دی
سب کج نصار کیتا چھڈی سوئی وی نئیں
عرشاں دا لاڑا ڈھوکیا ویڑے صدیق دے
ساڈے جسم چ شاکر نئیں خون غیر دا
— Unknown
جمال شاہ امم لا الہ الا اللہ
پتہ کچھ اور ہی چلتا ہے من رانی سے
خدا کی نور سے وہ، ان کےنورسے سب کچھ
شہود کس کو کہیں اور غیب کس کو کہیں یہاں تو
جلے جو دامنِ دل، شوقِ شعلہ غم سے
بغیر ذات ظہورِ صفات نا ممکن
وہ آپ اپنے مقابل ہیں محفل کُن میں
ہر ایک رخ ہے مکمل مطابقِ فطرت
— Khawaja Shouq\
مجھ کو طیبہ میں بُلالو شاہِ زَمَنی
نگر نگر اور ڈگر پھرتا ہوں مارا مارا
جو بھی پہنچا تمرے در پر لوٹا کبھی نہ خالی
ہریالے گنبد کا منظر جنت سے ہے پیارا
دعا کرو سب مل کر یہ شہبازؔ مدینے جاۓ
— Unknown
عاشقو عاشقی کا مزہ اگیا
جوں ہی نکلا روحِ وضحیٰ ذلف سے
بولے جِبریل تلوؤں کو یوں چوم کر
پیچھے خُر ہیں تو آگے ہیں ابنِ علیٔ
میں بھی تھا تھے فرشتے بھی حاکم وہاں
— Unknown
آنکھوں کا تارا نام محمد ﷺ
دولت جو چاہو دونوں جہاں کی
پائیں مرادیں دونوں جہاں کی
رکھو لحد میں جس دم عزیزو
روزِ قیامت میزان و پُل پر
غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پر
پوچھے گا مولیٰ لایا ہے کیا کیا
اپنے جمیلِؔ روضوی کے دل میں
— Jamil Ur Rehman Qadri\