بسا قلب و نظرمیں ہے خیال گنبدِ خضریٰ
بڑی پرواز ہے مانا تری اے طائرِ سدرہ
شبِ معراج کے اسرارسےجو معرفت پاۓ
جہاں بھرکے نظاروں سے مٹی نہ تشنگی اپنی
بہاریں دیکھ کرارض و سما کی دل یہی بولے
عجب دیوانگی دیکھی رضاؔ کی یومِ محشر میں
— Muhammad Naeem Raza\
بسا قلب و نظرمیں ہے خیال گنبدِ خضریٰ
بڑی پرواز ہے مانا تری اے طائرِ سدرہ
شبِ معراج کے اسرارسےجو معرفت پاۓ
جہاں بھرکے نظاروں سے مٹی نہ تشنگی اپنی
بہاریں دیکھ کرارض و سما کی دل یہی بولے
عجب دیوانگی دیکھی رضاؔ کی یومِ محشر میں
— Muhammad Naeem Raza\
عاشق دی ہر صدا نوں سرکارجان دےنے
صدیق دی وفا نوں فاروق دی ادا نوں
ہجرت دی رات اپنےبسترتےکیوں لٹایا
میں کیوں کسےدےبوہےجاجا کےرولاپاواں
لکھ وار بھیس بدلوچل لو ہزار چالاں
اینویں تے عیباں اُتےپاۓنہیں جاندےپردے
قرآن وچ ہے اولیٰ بالمؤمنین پڑھ لو
ناں کوئی جان سکیا ناں کوئی جان سکدا
— Nasir Hussain Chishti\
نہ کلیم کا تصورنہ خیال طورِ سینا
میں گداۓ مصطفیٰﷺ ہوں مری عظمتیں نہ پوچھو
میں مریض مصطفیٰ ﷺ ہوں مجھے چھیڑو نی طبیبو!
مجھے دشمنو! نہ چھیڑو میرا ہے جہاں میں کوئی
مرے ڈوبنے میں باقی نہ کوئی کسر رہی تھی
سوا اس کے میرے دل میں کوئی آرزو نہیں ہے
کبھی اے شکیل دل سے نہ مٹے خیالِ احمد ﷺ
— Unknown
ان کی رحمت ملی جب مدینے گیا
چٹکی دل کی کلی جب مدینے گیا
ان کی خوشبو سے راہیں مہکتی ہوئیں
حاضری ان کے در کی بڑی چیز ہے
روح مردہ کو ان کے کرم سے ملی
شہرِ طیبہ کا کیا ہے جہاں میں مقام
سبز گنبد پہ پہنچی نظر تو مٹی
ہر طرف ہی نظر آئی مجھ کو ریاضؔ
— Unknown
غمزدوں کےلۓرحمتِ مصطفیٰ وہ سمندرہے جس کا کنارہ نہیں
شاہد اس پہ ہواہے کلام خدامصطفیٰ کی رضاہےخدا کی رضا
منتظرچشمِ رحمت کےشاہ و گدا ہےبہا ان کا فیضان جود و سخا
بےبس وبےاماں،بےکس وناتواں خستہ تن،بےوطن، تشنہ لب،نیم جاں
کیا گھڑی ہوگی محشرمیں سب انبیاءامتوں کو نہ دیں گے کوئی آسرا
ہو کے وارفتہ جو بھی مدینےگیاسبز گنبد کو بس دیکھتا رہ گیا
نعت سرکارکی دل سےنکلےصداسننےوالےبھی ہوں جان و دل سے فدا
— Muhammad Ali Zahoori\
چمک جاۓ مقدر کا ستارا یا رسول اللہؐ
سہارا چاہیےاُمت کی کشتی ڈگمگاتی کو
شفاعت کاجہاں ہو منبعِ جود و سخا آقاؐ
نہ ہو جس میں خوشبومدینےکی فضاؤں کی
سدا مشکل کشائی کیلۓ تشریف لاۓ ہیں
خداۓ لم یزل کی محفل انجم ادھوری تھی
ہوئیں جن پرعطا کی بارشیں، ان خوش نصیبوں کی
کہاں حسرت رہی خلد بریں کی ان فقیروں کو
کھڑا ہے صابریؔ بھی دامنِ اُمید پھیلاۓ
— Muhammad Ali Sabri\
نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں، نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہا در پہ بلا لیا، جسے چاہا اپنا بنا لیا
وہ بھٹک کے راہ میں رہ گئی، یہ مچل کے در سے لپٹ گئی
تجھے اے منور بے نوا درِ شہؐ سے چاہیے اور کیا
— Unknown
آقا کے دیوانے کہتے ہیں
جس نے یارو مُردے جلاۓ
جن کا رتبہ سب سے جدا ہے
اللہ کی تصویر ہے پیارا
رب نے جس کو یار بنایا
جس نے کسی کا دل نہیں توڑا
— Unknown
غم حبیب کو سینے میں پال رکھا ہے
تری مثال زمانےمیں ہو نہیں سکتی
ہر آڑے وقت میں فرمائی دستگیری مری
ہر ایک سمت عیاں ہیں کہاں کہاں دیکھیں
میری حیات نے ان کا خیال رکھا ہے
ہم ان کو حشر میں کیا منہ دکھائیں گے نیر
— Syed Shareef Ud Deen Nayyar\
عظمتوں کا تری حساب نہیں
تُو جو لایا پیامِ ربّ کریم
جو کسی کے بھی روبُرو نہ ہوئی
ہوگئ جس میں تیری جلوہ گری
ڈھونڈ لاۓ جو تیری بُوۓ بدن
حُسن خیر الانام ؐ کے آگے
صابریؔ! جن میں ہو نہ ذکرِ رسولؐ
— Muhammad Ali Sabri\