ہر لحظہ ہے رحمت کی برسات مدینے میں
پلکوں پہ سجاؤں گا میں خاک مدینہ کی
کچھ ہار درودوں کے ہیں زاد سفر میرا
عرشی بھی سوالی ہیں فرشی بھی سوالی ہیں
دربار سے کوئی بھی ناکام نہیں پھرتا
جس ذات کی برکت سے ہے نام ظہوریؔ کا
— Muhammad Ali Zahoori\
ہر لحظہ ہے رحمت کی برسات مدینے میں
پلکوں پہ سجاؤں گا میں خاک مدینہ کی
کچھ ہار درودوں کے ہیں زاد سفر میرا
عرشی بھی سوالی ہیں فرشی بھی سوالی ہیں
دربار سے کوئی بھی ناکام نہیں پھرتا
جس ذات کی برکت سے ہے نام ظہوریؔ کا
— Muhammad Ali Zahoori\
ہر جا بج رہا ہے سرکار کا ترانہ
نوری بھی پڑھ رہے سرکار کا ترانہ
سارے جہاں کے اندر جس وقت جا کے دیکھو
لب چومتے ہیں اُس کے آکے فرشتے نوری
کعبے کا ہر مینار فلکوں کا تارا تارا
حورو غلماں سارے ثاقبؔ ہر وقت پڑھ رہے ہیں
— Unknown
غم،طمانیت و تسکین میں ڈھل جاتے ہیں
ان کی رحمت ہے خطا پوش گنہ گاروں پر
اسم احمد کا وظیفہ ہے ہر اک غم کا علاج
آپ کے ذکر سے اک کیف ملا کرتا ہے
اپنی آغوش میں لے لیتا ہے جب ان کا کرم
عشق کی آنچ سے دل کیوں نہ بنےگا کعبہ
رکھ ہی لیتے ہیں بھرم ان کے کرم کےصدقے
آپڑے ہیں ترے قدموں میں یہ سن کر ہم بھی
آپ کو کعبہ مقصود ہی مانو خالد
— Khalid Mehmood Khalid\
کب مجھے آقاؐ خدائی چاہیے
دل کی بستی میں ہوں یادیں آپ کی
زندگی سے موت کی آغوش میں
دامنِ رحمت کی عظمت کے طفیل
عقل کے جھنجھٹ سے چھٹکارا ملے
کھیلتی ہے عقل ہولی خون کی
چار سُو پھیلی ہوئی ہے تیرگی
خوار و خستہ امتِ مغموم کی
چپ رہوں گا کچھ نہیں مانگوں گامیں
مولاؐ! محتاج کرم ہے صابریؔ
— Muhammad Ali Sabri\
محمد ﷺ کا نہ در ملتا دیوانے کہاں جاتے
اگر نہ مشعل وحدت جہاں میں جلوہ گر ہوتی
غریبوں بے سہاروں کو اگر نہ آسرا ملتا
اگر اپنوں کو ہی لیتے محمد ﷺ ظلِ رحمت میں
اگر روداد غم سنتے نہ حضرت ﷺ بے نواؤں کی
اگر نہ رحمت عالم کے قدموں میں جگہ ملتی
اگر ہوتے جبینوں پہ نہ سجدوں کے نشان مسلم
— Unknown
غلاموں سلاموں کے نغمےسناؤ
کھلے پھول غنچے سجی ڈالی ڈالی
خدا جس پہ نازاں خدائی بھی قرباں
امیرو فقیرو ارے بے نواؤ
اری مشکلو! مشکلوں میں نہ گھیرو
یہ کون آیا اوڑھے کرم کا دوشالہ
پڑھے جا نبی کی تو نعتیں نیازی
— Abdul Sattar Khan Niazi\
آقا حضور آئیں گ آج نہیں تو کل سہی
جلوہء روۓ والضحیٰ نور نظر بنے گا جب
ان کا کرم ہے چار سو ان کی ہے مجھ کو جستجو
ان کے بغیر زندگی موت ہے زندگی نہیں
نعتوں کے پھول اسی طرح کھلتے رہے جو رات دن
ایسا بھی ہو گا ایک دن ہم اپنی داستانِ غم
وابستہ کر دے اے ریاضؔ ان سے خدا اگر ہمیں
— Unknown
چلےہیں سُوۓ طیبہ قافلے پھر
طلب گار نگاہِ شاہؐ دیں ہیں
سنا ہے اُن کی تشریف آوری ہے
میرے حالات آقاؐ جانتے ہو
ہے رشکِ لالہ و گل کی جو آمد
طوافِ روضۃ اطہر کریں تو
متاع عشق سینوں میں اگر ہو
قلم اٹھے تریؐ توصیف کو جب
بلاوا چاہۓ طیبہ نگر سے
— Muhammad Ali Sabri\
مِرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
وہ شرح احکام حق تعالیٰ
شعور لایا کتاب لایا
وہ علم کی اور عمل کی حد بھی
وہ آدمؑ و نوحؑ سے زیادہ
بس ایک مشکیزہ اک چٹائی
— Unknown
نبی کا جھنڈا لے کر نکلو دنیا پر چھا جاؤ
عاشق ہیں جو پاک نبی کے اُن کو لے کر ساتھ چلو
قریہ قریہ بستی بستی ذکر نبی کا عام کرو
دشمن ہیں جو پاک نبی کے اُن کو دفع دور کرو
رنگ برنگے جھنڈے چھوڑو تھام لو گنبد والا
ابنِ علی نے کرب و بلا میں تم کو یہ پیغام دیا
یہ جھنڈا ہے سیدنا صدیق کی آنکھ کا تارا
— Unknown