من موہن نے روپ نکالا، اُس پہ فدا گھر بار
رنگ شہابی، نین گلابی، مستانہ رفتار
جان کے کیوں انجان بنے ہو میں ہوں بڑی دُکھیار
تجھ پہ اپنا تن من واروں پھونک دوں تجھ پر رَین
کس کا روپ بھرا ہے تم نے، جو بن کس کا دھارا ہے
سایہ بن کر ساتھ رہوں گی، تمرے سَگن دن رات کروں گی
ترپت ترپت عمر گجاری، ہونے لگی اب شام
تم بن چین ملا نہ کبھو بھی، کَٹھن کٹی موری رات
جیسے جلے ہے بَن کر لکڑی، ایسے جلتی ہوں
تیرے دوارے آن پڑی ہوں تجھ پہ نجریا باندھ کھڑی ہوں
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
