یا نبی ہم گنہگاروں کو دردِ فرقت سے اب جلا دینا
خاکِ طیبہ ملےلحد کےلۓکالی کملی ملے کفن کےلۓ
دور رہ کر تمہاری چوکھٹ سے اشک آنکھوں سے بہتے رہتے ہیں
آپ نبیوں میں سب سے اعلیٰ ہیں ختم اک آپ پرنبوت ہے
لاج رکھنا شہہ زمن میری التجاہے یہ قلب عشرت کی
— Unknown
یا نبی ہم گنہگاروں کو دردِ فرقت سے اب جلا دینا
خاکِ طیبہ ملےلحد کےلۓکالی کملی ملے کفن کےلۓ
دور رہ کر تمہاری چوکھٹ سے اشک آنکھوں سے بہتے رہتے ہیں
آپ نبیوں میں سب سے اعلیٰ ہیں ختم اک آپ پرنبوت ہے
لاج رکھنا شہہ زمن میری التجاہے یہ قلب عشرت کی
— Unknown
زمیں و زماں تمھارے لئے
دہن میں زباں تمہارے لئے
اصالت کل ، امامت کل،
تمہاری چمک تمہاری دمک
وہ کنز نہاں یہ نور فشاں
یہ شمس و قمر یہ شام و سحر
نہ روحِ امیں نہ عرشِ بریں
جناں میں چمن، چمن میں سمن،
اشارے سے چاند چیر دیا،
صبا وہ چلے کہ باغ پھلے،
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
جو دیکھنے میں بڑے دیدہ ورنظر آۓ
وہ آئینہ ہے ترا حسن آئینہ مثال
تجلّیوں میں نہائی ہوئی سحر کی طرح
محیط ہے کئی صدیوں پہ اک وہ لمحہ دید
تو مل گیا تو یہ خواہش بھی مٹ گئی دل سے
ملے خلا و ملا میں ترے نقوش قدم
— Muhammad Azam Chishti\
جس نے نبی ﷺ کی یاد میں دل کو بسا لیا
دونوں جہاں کی نعمتیں حاصل ہوئیں اُسے
ذکر نبی ﷺ میں جس کی بھی گزری ہے زندگی
گھبرا رہا تھا اپنے گناہوں سے حشر میں
چُھوٹا کبھی نہ چُھوٹے گا دامان مصطفیٰ ﷺ
سب رنج وغم ہوں دور سکون قلب ملے
کشتی پھنسی ہوئی تھی بھنور میں نکل گئی
ہوتا وہی قریب ہے اللہ کے اے چراغؔ
— Unknown
منگتوں کو سلطان بنایا میرے کملی والے نے
جس پر اپنا رنگ چڑھایا میرے کملی والے نے
مال و زر کی بات نہیں ہےیہ توکرم کی باتیں ہیں
جس کو حقارت سے دنیانے دیکھا اور منہ پھیر لیا
جتنا خرچ میں کرتا جاؤں اُتنا بڑھتا جاۓ ہے
دشمن کی بھی پیاس بجھائی اپنے بھی سیراب ہوۓ
غم کی دھوپ تھی میرے سرپر اور پریشاں حال تھا میں
خود تو ٹھہرے ختم الرسل اور غوث پیا جیلانی کو
صحرا صحرا پھول کھلاۓ نقشِ قدم کی برکت سے
اُن کا تصور کرتے کرتےمیں بھی مدینے جا پہنچا
نعت علیم زباں پر آئی میری قسمت جاگ اٹھی
— Unknown
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہر مدینہ ایسا ہے
منبر پاک رسولﷺ بھی دیکھا دیکھا خاص مصلیٰ بھی
ریاض الجنت کی خوشبو سے دل کو بھی مہکایا ہے
ہم مہمان بنے تھے انؐ کے عرش پہ جو مہمان ہوۓ
واپس آئیں دل نہیں کرتا چھوڑ کے انؐ کی چوکھٹ کو
— Unknown
جس طرف چشم محمد کے اشارے ہو گۓ
جب کبھی عشق محمد کی عنایت ہوگئی
موجۃ طوفان میں جب نام محمد لے لیا
یا محمد آپ کی نظروں کا یہ اعجازہے
میں ہوں اور یادِ مدینہ اور ہیں تنہائیاں
اپنی کملی کاذرہ سایہ عنایت ہو مجھے
— Saghar Siddiqui\
مدینہ کو جائیں یہ جی چاہتا ہے
جہاں دونوں عالم ہیں محوِ تمنا
محمد ﷺ کی باتیں محمد ﷺ کی سیرت
مدینے کے آقا ﷺ دوعالم ﷺ کے مولا
پہنچ جائیں ہاشم جب ہم مدینے
— Unknown
بگڑی بھی بنائیں گے جلوے بھی دکھائیں گے
ہم مسجدِ نبوی کے دیکھیں گے میناروں کو
مل جائیں گی تعبیریں اک روز تو خوابوں کی
جب حشر کے میداں میں اک حشر بپا ہوگا
دل عشقِ نبی ﷺ میں تم کچھ اور تڑپنے دو
— Unknown
ہمیں اپنا وہ کہتے ہیں محبت ہو تو ایسی ہو
وہ پتھر مارنے والوں کو دیتے ہیں دعا اکثر
اشارہ جب وہ فرمائیں تو پتھر بول اٹھتے ہیں
وہاں مجرم کو ملتی ہیں پناہیں بھی جزائیں بھی
ہے آقا کی ولادت پر ہوۓ سب کو عطا بیٹے
نمازِ عصر کو قربان کرکے ان کی ہستی پر
حسین ابن علی نے کربلا میں یہ کیا ثابت
زمین وآسماں والے بھی آتے ہیں غلامانہ
— Syed Nasir Hussain Chishti\