اے احمدِ مرسل نورِ خدا تیری ذاتِ صفا کا کیا کہنا
چہرے پہ ہیں قرباں شمس وقمرزلفوں پہ تصدق شام وسحر
والعصر ہے تیرے زماں کی قسم ولعمرک ہے تیری جاں کی قسم
کھایا نہ کبھی بھی جی بھر کر خود بھوکے رہے باندھے پتھر
سائل جو کبھی در پر آیا خالی نہ کبھی اُس کو پھیرا
بد بخت جو تھے وہ نیک ہوۓ لڑتےتھے ہمیشہ جو ایک ہوۓ
صابرؔ سے کہاں ہو مدح تیری تیرے خلق میں ہے قرآن سبھی
— Unknown
