اے چارہ گرِ شوق کوئی ایسی دوا دے
بس دیکھ لیا دنیا کے رشتوں کا تماشا
پاکیزہ تمنائیں بھی لاتی ہیں اداسی
کیوں نیک گمانوں کے سہارے پہ جیئے ہے
دیکھے یا نہ دیکھے یہ تو محبوب کا حق ہے
دے لذتِ دیدار کی بے ہوشی میں وہ ہوش
ناسوت و ملکوت و جبروت کے احوال
اک میں ہوں فقط تو ہو عالمِ ہُو ہو
ہر فعل صفت ذات سے یوں مجھ کو فنا کر
میں خود کو بھی خود اپنے سے پھر ڈھونڈ نہ پاؤں
انوار و معانی طبائع سے جدا کر
ہوں ترے حجابات کی دہلیز پہ کب سے
ہے روح کو ہر لمحہ ترے وَصل کی امید
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
