اے کاش! تصوُّر میں مدینے کی گلی ہو
دو سوزِ بِلال آقا ملے درد رضا سا
اے کاش! میں بن جاؤں مدینے کا مسافِر
پھر رَحمتِ باری سے چلوں سُوئے مدینہ
جب آؤں مدینے میں تو ہو چاک گِرِیباں
اے کاش! مدینے میں مجھے موت یوں آئے
جب لے کے چلو گورِغَریباں کو جنازہ
جس وقت نکیرَین مِری قبر میں آئیں
اللہ! کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں
صَدقہ مِرے مرشِد کا کرو دُور بلائیں
اللہ کی رَحمت سے تو جنَّت ہی ملے گی
محفوظ سدا رکھنا شہا! بے اَدَبوں سے
عطارؔ ہمارا ہے سرِحَشر اِسے کاش!
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
