Baharon Par Hain Aaj Araishein (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواری جراحت کی

گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں اُمت کی

شہیدِ ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیونکر ہو

کرم والوں نے دَر کھولا تو رحمت نے سماں باندھا

علی کے پیارے خاتونِ قیامت کے جگر پارے

زمینِ کربلا پر آج مجمع ہے حسینوں کا

یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونکدیں اپنے فدائی کو

یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جان تازہ پائیں پروانے

یہ وہ شمعیں نہیں جن سے فقط اِک گھر منور ہو

دلِ حور و ملائک رہ گیا حیرت زَدہ ہو کر

جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیں

اسی منظر پہ ہر جانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں

ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اَشکِ یتیماں سے

ہوائے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کے

اُدھر اَفلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کے

سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستے

ہوائیں گلشن فردَوس سے بس بس کر آتی ہیں

دِل پُر سوز کے سلگے اگر سوز ایسی کثرت سے

اُدھر چلمن اٹھی حسن اَزَل کے پاک جلوؤں سے

زمین کربلا پر آج ایسا حشر برپا ہے

گھٹائیں مصطفیٰ کے چاند پر گھر گھر کر آتی ہیں

یہ کس کے خون کے پیاسے ہیں اُسکے خون کے پیاسے

اکیلے پر ہزاروں کے ہزاروں وَار چلتے ہیں

مگر شیر خدا کا شیر جب بپھرا غضب آیا

کہا یہ بوسہ دے کر ہاتھ پر جوشِ دِلیری نے

تصدق ہو گئی جانِ شجاعت سچے تیور کے

نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکے

مگر مقصود تھا پیاسا گلا ہی ان کو کٹوانا

شہیدِ ناز رکھ دیتا ہے گردن آبِ خنجر پر

یہ وقت زخم نکلا خوں اُچھل کر جسم اَطہر سے

سر بے تن تن آسانی کو شہر طیبہ میں پہنچا

حسنؔ سنی ہے پھر اِفراط و تفریط اس سے کیونکر ہو

— Hassan Raza Khan Barelvi\