بروزِ محشر شفیع امت پیاس سب کی بھجا رہے ہیں
حضور جس دم جہاں میں آۓ خوشی سے ہر اک یہ گیت گاۓ
وہ نور جس کو بنایا رب نے زمیں سے پہلے زماں سے پہلے
حضور جس دم ہوۓ ہیں پیدا گرے ہیں کعبہ میں لات و عزیٰ
حبیب رب کی ہوئی ہے آمد ادب سے اٹھ کر سلام بھیجو
جلا کے دل میں چراغ الفت مٹاؤ نفرت ظلمت
شفیع روز شمار بھی ہیں حبیب پروردگار بھی ہیں
— Mufti Abdul Muqtadir Khan Jalwi\
