چوموں گا ہر اک راہ مدینہ کو نظر سے
تسلیم کہ یثرب ہے بہت دور نظر سے
ممکن ہے یہیں ان کے نقوشِ کفِ پا ہوں
ایک ایک قدم بن گیا پیغامِ مسرت
ہر کام پہ تکبیر ہو ہر سانس پر تہلیل
حسرت ہے کہ اب عمر اسی راہ میں گزرے
ان کا رخ پر نور ضیا بار ہے کتنا؟
اس بندۃ نامدار پہ قربان خدائی
جبریل بھی خادم ہے اسی بابِ کرم کا
ہوسکتی ہے سیراب ابھی کشتِ تمنا
سمجھے گا اسے کوئی فدا کارِ مدینہ
دن رات اس اندیشے سے دل کانپ رہا ہے
دیدارِ مدینہ کی دعا مانگ رہا ہوں
— Unknown
