در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
اے کاش مدینے میں مجھے موت یوں آۓ
اے پیارے خدا دیکھوں میں سرکار کا جلوہ
جب دور سے ہے اتنا حسیں گنبدِ خضریٰ
طیبہ کی سعادت تو یوں پاتے ہیں ہزاروں
آجائیں میرے گھر میں اگر رحمت عالم
پائی ہے منور نے قضا در پہ نبی کے
— Unknown
