تمام معرکو ں کا آخری پڑاؤ کربلانہ دیکھا ہوگا ایسا قافلہ بھی آسمان نے
ہوائیں بادباں ، لہو فرات، ناؤ کربلارضائے حق پہ گھر کا گھر لٹا دیا حسین نے
بتا گئی ہمیں صداقتوں کا بھاؤ کربلاشریعت رسولؐ کو یزید کوئی گھیر لے
تو سر ہتھیلیوں پہ لے کے خود ہی جاؤ کربلالڑی ہے ، اس طرح کی جنگ کیا کسی بھی قوم نے
کسی بھی عسکری کتاب میں دکھاؤ کربلالہو کے ہار اہل صبر کے گلے میں ڈال کر
سکھائے موت کو بھی زندگی کے داؤ کربلاکٹے ہوئے تمام سر تو ہیں ہر ایک جسم پر
تمہاری قبر ہے زمین کے خداؤ کربلامظفر اس طرف حسین لشکر یزید ادھر
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
