فلک کے نظارو، زمیں کی بہارو،
انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا
ہوا چار سُو رحمتوں کا بسیرا
ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے،
سماں ہے ثنائے حبیبِ خدا کا
کہاں میں ظہوؔری کہاں ان کی باتیں
— Muhammad Ali Zahoori\
فلک کے نظارو، زمیں کی بہارو،
انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا
ہوا چار سُو رحمتوں کا بسیرا
ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے،
سماں ہے ثنائے حبیبِ خدا کا
کہاں میں ظہوؔری کہاں ان کی باتیں
— Muhammad Ali Zahoori\