گلزارِمدینہ صلِ علیٰ رحمت کی گھٹا سبحان اللہ
اُس زلف معنبر کو چھو کر مہکاتی ہوئی اتراتی ہوئی
معراج کی شب کا سفر افلاک کی رونق سر تا سر
جب بہرِ شفاعت محشر میں سرکار کا شہرہ عام ہوا
ہونٹوں پہ تبسم کی موجیں، ہاتھوں میں لیے جامِ رحمت
کہنے کوتونعتیں سب نے کہا، یہ نعت نصیر آفاقی ہے
— Unknown
