گزرے جس راہ سے وہ سیِّدِ والا ہو کر
رُخِ اَنور کی تجلی جو قمر نے دیکھی
وَائے محرومیِ قسمَت کہ میں پھر اب کی برس
چمنِ طیبہ ہے وہ باغ کہ مُرغِ سِدرہ
صَرْصَرِ دَشتِ مَدینہ کا مگر آیا خیال
گوشِ شہ کہتے ہیں فریاد رَسی کو ہم ہیں
پائے شہ پر گِرے یارب تپشِ مہر سے جب
ہے یہ امّید رضاؔ کو تِری رحمت سے شہا
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
