ہے آج جشنِ صبح بہاراں حضور تشریف لارہے ہیں
نفس نفس رحمتیں ہیں رب کی نظر نظر نور ہےنمایاں
طلوع ہے اک ماہتاب ایسا ہر ایک ذرہ ہےنور جیسا
خدا نے جن کی خوشی میں اپنا تمام عرش علی سجایا
زبور میں جن کا ذکر آیا خلیل نے جن کی آرزو کی
وہ کہکشاں ہو کہ یا قمر ہوملائکہ ہوں کہ یا بشر ہوں
ہماری قسمت کہاں ہے ایسی جو ہم بھی سوۓ مدینہ جائیں
— Unknown
