ہے کبھی دُرود و سلام تو،کبھی نعت لب پہ سجی رہی
تری آنکھ میں جو نمی رہی، کلی تیرے دل کی کِھلی رہی
مجھے کردے دِیدۂ تر عطا، غمِ عشق سوزِجگر عطا
نہ کثیر مال کی آرزو، نہ ہی اِقتِدار کی جُستجو
جسے مل گیا غمِ مصطَفٰے، اُسے زندگی کا مزہ ملا
یہ ہے زندَگی کوئی زندَگی، نہ نَماز ہے نہ ہی بندَگی
جو نبی کی یاد میں کھو گیا، وہ خدائے پاک کا ہوگیا
مجھے یانبی! تری دید ہو، تِری دید ہو مِری عید ہو
نہ پسند آئیں چمن اُسے، نہ ہی کھیت بھائیں ہرے بھرے
مجھے اب مدینے میں لوبُلا،اِسی سال حج بھی کروں شہا
مِری جاں ہو جسم سے جب جدا، ہو نظر میں جلوہ ٔ مصطَفٰے
مَدَنی! گناہ کی عادتیں ، نہیں جاتیں ، آپ ہی کچھ کریں
مجھے شوقِ دیں شب و روز دے، یہی ولولہ یہی سوز دے
تُو سگِ ؔمدینہ کو یاخدا، غمِ روزگار سے لے بچا
— Unknown
