اعتبار حیات تیرا نامذرے ذرے میں ہے وجود ترا
وحدت کائنات تیر ا نامکل تری ذات جزو ذات مری
میں تغیر ٗ ثبات تیرا ناممیرے سجدے میں تو قیام میں تو
عشق کی کلیات تیرا نامجب کسی پیڑ پر نظر ڈالی
پڑھ لیا پات پات تیرا نامتو معلم تمام اسموں کا
معنیِ ہر لغات تیرا نامتو ہر انساں کی شاہ رگ سے قریب
یعنی ہر اک کے ساتھ تیرا نامنکہتِ لازوال تیرا ذکر
روشنیِ نجات تیرا ناممیرے خوں میں حرارتیں تیری
میری تشریحِ ذات تیرا ناماور کیا چاہیے مظفر کو
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
