حشر میں نامۃ سایہ کا بوجھ
آگ کے کپڑے رحم! ہوگا وہ کیا
درگزر، عفو، مغفرت، یا رب!
دیکھ میزان حشر کی رو سے
بندگی ہو مجھے حلاوت بخش
لفظ توحید تجھ سے ہے مخصوص
صاف کر دیجو، میری فردِ عمل
بے نیازانہ جہ زمانے میں
غلطی کی ریاضؔ ہم نے جو
— Riaz Majeed\
Hamd o Sana lyrics praising Allah Almighty
حشر میں نامۃ سایہ کا بوجھ
آگ کے کپڑے رحم! ہوگا وہ کیا
درگزر، عفو، مغفرت، یا رب!
دیکھ میزان حشر کی رو سے
بندگی ہو مجھے حلاوت بخش
لفظ توحید تجھ سے ہے مخصوص
صاف کر دیجو، میری فردِ عمل
بے نیازانہ جہ زمانے میں
غلطی کی ریاضؔ ہم نے جو
— Riaz Majeed\
اتنی تو دل کو' اے خدا ! ہو سمجھ
کیا سمجھ آۓ تیری' آدم کو
ہر صفت میں وہ کامل و اکمل
رہے پل بھر نہ اس کے ذکر بغیر
تُو ہی الہام کر ریاضؔ کو حق
— Riaz Majeed\
تیرا ہر پارۃ مبیں ہے سچ
جیسے قرآں کی آیت آیت ہے
ہوا آغاز جس کا اقرا سے
لاۓ جبریل وحی جو لاریب
نام جس کا محمدؐ عربی
زہے شیخین کی قرابتِ قبر
دائم آرام اور سکینت بخش
کذب ہے ہر حوالہ تیرے بغیر
کبھی عکس اس کا جلوہ گر ہو ریاضؔ
— Riaz Majeed\
تری طاعت کی دنیا میں رہوں کچھ
گزاری اب تک آزادہروی میں
اطاعت کی فضاۓ خیر زا میں
بنے جو ورد خلقت کی زباں کا
اطاعت خُو، بھلے لوگوں کی صورت
عمل نامے میں رنگ آجائیں یا رب!
جسے آقا پذیرائیں الہی
کروں تسبیح تیری خلوتوں میں
ریاضؔ اچھا لگے رحمٰن کو جو
— Riaz Majeed\
حرص سے مکر سے ریا سے بچ
عاجزی اختیار کر، چپ رہ
کسی معصوم کا دکھا نہ تُو دل
کریں گے تجھ پہ بار بار وہ وار
ایکہے ایک ہے ریاضؔ وہ ایک
— Riaz Majeed\
کریں تیرے ہی نام کی تسبیح
منزل حمد کس نے سر کی ہے
جو زمیں میں' جو آسماں میں ہے شے
سب زبانوں میں جتنے لفظ ہیں وہ
صرف حیرت ہے شش جہت حیرت
دمبدم تیری کلکِ رحمت سے
تیرا سارا نظام موجودات
— Riaz Majeed\
جس کسی نے بھی کی کسی کی مدح
ہو کرم مجھ خطا شعار پہ بھی
سرسراہٹ ہواؤں کی تسبیح
فرش سے عرش تک کروں نے ترہ
تو حمید آپ اپنی ذات میں ہے
صبح کاذب میں کیسے شبنم نے
کوہساروں کا راز یاب سکوت
لفظ کا ظرف کب کرے اس کی
کس نے کی؟ کون کرسکے گا ریاضؔ
— Riaz Majeed\
سدا سکینت اثر ہو درود کی تسبیح
بعید کیا تیری رحمت سے تو جو دے توفیق
زباں کا ورد ہو سبحان ربی الا علی
ہوں اس کے ساتھ ہم آہنگ دھڑکنیں دل کی
ہو دل کی نبض کی سانسوں کی خوں کی گردش کی
ہو پورا ذکر پردیا خلوصِ نیت میں
ہو مردہ دل مرا، بیدار اور زندہ کوئی
گرا رہا ہے شب و روز دانہ دانہ وہ
ستارے کا ہکشائیں ہیں جس کے دانے ریاضؔ
— Riaz Majeed\
مرے اذکار کا، اعمال کا، گفتار کا رُخ
رہا ہے تیرے غلاموں ہی کی دہلیز کی سمت
سعیِ فن ہومری سب تیری ستایش ہی میں صرف
حشر کے دن رہے مجھ ایسے خطاکار کی سمت
ہو اجالا مری سوچوں کا حوالہ تیرا
ہیں کُرے جتنے' توجہ سے تری قائم ہیں
رہے تا عمر فقط تیری رضا کی جانب
کیوں نہ وہ قافلہ فرخندہ مقدر ہو کہ جب
اپنے ہر امتی کی سمت ہو محشر میں ریاضؔ
— Riaz Majeed\
تا عمر رہے گی روح خورسند
بس اس کی رضا کو جان مقصد
گر حمد کی معرفت سے آۓ
چمکا نظر آخرت کی لَو سے
توحید حقیقت الحقائق
رُخ جس کا الہٰ کی طرف ہے
رہ مستعد اس کی بندگی میں
اک لفظ 'بلیٰ' کا تھا بظاہر
— Riaz Majeed\