ہر وقت تصور میں میرے ہیں مست گھٹائیں طیبہ کی
حالات کے زنداں میں جب بھی محسوس گھٹن میں کرتا ہوں
محروم نہیں رہتا کوئی ہر ایک کا دامن بھرتا ہے
طیبہ سے آنے والوں سےہے عرض میری بس اتنی سی
ہے عدل یہاں انصاف یہاں ہے رحم یہاں ہے پیار یہاں
کیوں سامنے میرے کرتے ہو رنگینئ جنت کی باتیں
اب دیکھۓ گنبدِ خضریٰ کی کب مجھ کو زیارت ہوتی ہے
— Unknown
