ہزار پیش کروں تجھ کو میں سلام ہوا
میں خاکِ طیبہ کو آنکھوں میں بھر کے آیا ہوں
کھلاۓ جاتی ہے شاخوں پہ پھول مدحت کے
یہ جب سے گنبدِ خضریٰ کو چھو کے آئی ہے
تیری تو شہرِ مقدس سے پے شناسائی
— Irfan Sadiq\
ہزار پیش کروں تجھ کو میں سلام ہوا
میں خاکِ طیبہ کو آنکھوں میں بھر کے آیا ہوں
کھلاۓ جاتی ہے شاخوں پہ پھول مدحت کے
یہ جب سے گنبدِ خضریٰ کو چھو کے آئی ہے
تیری تو شہرِ مقدس سے پے شناسائی
— Irfan Sadiq\