ہم گو ہیں برے قسمت ہے بھلی جب پشت پناہ ان سا پایا
معراج کی شب ہمراہ ہیں سب سدرہ آیا کوئی نہ رہا
جبریل کی آنکھوں سے پوچھو اے چشمِ حقیقت بیں کہہ تو
وہ جس کوملے ، ایمان ملا ، ایمان تو کیا رحمن ملا
بے مثلِیِ حق کے مظہر ہو پھر مثل تمہارا کیوں کر ہو
نہیں جلوہ میں ان کے یکرا ہی کوئی آقا کہے کوئی بھائی
ارشاد ہوا سورج لوٹا پایا جو اشارہ چاند چرا
تم ہی تو ہو و حدت کے مظہر تم ہی تو ہو کثرت کے مصدر
ستّار مرے قربان ترے دنیا میں تو میرے عیب ڈَھکے
صرف ایک پیالہ پانی ہے اور پینے والے چودہ سو
جابر کے گھر تھوڑے َجو پر مہمان کیا سارا لشکر
اب تک تو کھلائے لقمۂ تراَب چھوڑ کے دَ رہم جائیں کدھر
دنیا سے بچالو سالکؔ کو کام اپنی رضا کے اس سے لو
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
