ہم کو اپنی طلب کے سوا چاہۓ
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چاہۓ
اک اقدس بھی نہ ہم چل سکیں گےحضور
آستان حبیب خدا چاہۓ
آپ اپنی غلامی کی دےدیں سند
اپنے قدموں کا دھوون عطا کیجۓ
سبز گنبد کی ہمسائیگی بخش دے
اور کوئی بھی اپنی تمنا نہیں
— Unknown
ہم کو اپنی طلب کے سوا چاہۓ
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چاہۓ
اک اقدس بھی نہ ہم چل سکیں گےحضور
آستان حبیب خدا چاہۓ
آپ اپنی غلامی کی دےدیں سند
اپنے قدموں کا دھوون عطا کیجۓ
سبز گنبد کی ہمسائیگی بخش دے
اور کوئی بھی اپنی تمنا نہیں
— Unknown